جمعہ 17 جولائی 2026 - 05:33
معرفتِ امام کیوں ضروری ہے؟

حوزہ/ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ معرفت سے کیا مراد ہے اور اس کے لغوی معنی کیا ہیں۔ اس کے بعد یہ بات واضح ہوگی کہ احادیث میں معرفت کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی ہے اور ہم سے کس قسم کی معرفت مطلوب ہے۔

تحریر: رضوانہ، جامعہ المصطفیٰ کراچی

حوزہ نیوز ایجنسی|
سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ معرفت سے کیا مراد ہے اور اس کے لغوی معنی کیا ہیں۔ اس کے بعد یہ بات واضح ہوگی کہ احادیث میں معرفت کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی ہے اور ہم سے کس قسم کی معرفت مطلوب ہے۔

لغت میں معرفت کے معنی ہیں: جاننا، پہچاننا اور کسی حقیقت سے آگاہ ہونا۔

احادیث میں معرفت کی اہمیت

رسولِ خدا نے ارشاد فرمایا:
مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
"جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر جائے، وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔"

اس حدیث پر غور کرنے سے چند اہم نکات سامنے آتے ہیں۔

حدیث میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ وہ جاہل مرے گا، بلکہ فرمایا گیا کہ وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ جاہلیت سے مراد اسلام سے پہلے کا وہ دور ہے جو گمراہی، شرک اور حق سے دوری کا زمانہ تھا۔ اس بنا پر حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر دنیا سے جائے، وہ گمراہی اور شرک کی کیفیت میں دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔

اسی حدیث کے بارے میں جب امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا تو آپؑ نے فرمایا:

"جاہلیت کی موت سے مراد گمراہی کی موت ہے۔"
اسی طرح ایک شخص نے امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا:

"جُعِلْتُ فِدَاکَ! جو شخص جاہلیت کی موت مرے، اس کا انجام کیا ہوگا؟"

امام علیہ السلام ؤر فرمایا:
"وہ مشرک مرے گا۔"

ان روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ شریعت میں معرفتِ امام کی کتنی عظیم اہمیت ہے، کیونکہ یہی انسان کو گمراہی اور شرک سے محفوظ رکھتی ہے۔ اگرچہ انسان عبادت کرتا رہے، لیکن اگر صحیح معرفت سے محروم ہو تو اس کی عبادت بھی اسے مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچا سکتی۔

انسان جب تک اپنے رب کی معرفت حاصل نہ کرے اور اپنے خالق کو نہ پہچانے، وہ حقیقت میں کس کی عبادت کر رہا ہے اور کس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر رہا ہے؟

امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے:

اللہ تعالیٰ معرفت کے بغیر کسی عمل کو قبول نہیں فرماتا، اور معرفت بھی اس وقت تک سودمند نہیں ہوتی جب تک اس کے ساتھ عمل نہ ہو۔

جسے حقیقی معرفت نصیب ہو جائے، وہی معرفت اسے عملِ صالح کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

اب تک درج ذیل نتائج واضح ہو چکے ہیں:

1. جو شخص امامِ زمانہ کی معرفت کے بغیر مرے، وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔
2. جو امامِ زمانہ کی معرفت سے محروم ہو، وہ گمراہی کی موت مرتا ہے۔
3. جو امام کی معرفت کے بغیر مرے، وہ شرک کی حالت میں دنیا سے جاتا ہے۔
4. امامِ زمانہ کی معرفت کے بغیر کوئی عمل بارگاہِ الٰہی میں قبول نہیں ہوتا۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امامِ وقت کی معرفت نہ ہونے پر اتنے سنگین نتائج کیوں بیان کیے گئے ہیں؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق ہی معرفت کے لیے کی ہے۔

ممکن ہے یہاں یہ سوال ذہہن میں آئے کہ قرآنِ کریم تو مقصدِ تخلیق عبادت کو قرار دیتا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
"میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔"

تو پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ مقصدِ تخلیق معرفت ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ عبادت، معرفت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ اسی حقیقت کو امام حسین علیہ السلام نے نہایت خوبصورتی سے بیان فرمایا۔

راوی بیان کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے آباء کے واسطے سے نقل فرمایا کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
"اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے بندوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی معرفت حاصل کریں۔ جب وہ اس کی معرفت حاصل کر لیں گے تو اس کی عبادت کریں گے، اور جب اس کی عبادت کریں گے تو غیر اللہ کی عبادت سے بے نیاز ہو جائیں گے۔"
امام حسین علیہ السلام کے اس ارشاد کے بعد ایک شخص نے عرض کیا:

"یا ابنَ رسولِ اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کی معرفت سے کیا مراد ہے؟"

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:

"ہر زمانے کے لوگوں کے لیے اللہ کی معرفت یہ ہے کہ وہ اپنے اس امام کو پہچانیں جس کی اطاعت اللہ تعالیٰ نے ان پر واجب قرار دی ہے۔"

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ امامِ وقت کی معرفت ہی وہ عظیم مقصد ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا ہے۔ لہٰذا جو شخص جتنا زیادہ اپنے امامِ وقت کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، وہ اتنا ہی اللہ تعالیٰ کے قرب کا مستحق ہوگا، کیونکہ وہ مقصدِ تخلیق کی تکمیل کی راہ پر گامزن ہے۔

پس اس دورِ غیبتِ کبریٰ میں ہم پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارہویں اور آخری خلیفہ، حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی معرفت واجب ہے، کیونکہ وہی اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمام مخلوقات پر حجت ہیں۔ اہلِ بیت علیہم السلام کے مکتب کا یہی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی بھی زمین کو اپنی حجت سے خالی نہیں رکھتا۔

احادیث کی روشنی میں معرفتِ امامِ زمانہ

اب جبکہ یہ واضح ہو چکا کہ معرفتِ امام واجب ہے اور اس کے بغیر انسان گمراہی اور ہلاکت سے محفوظ نہیں رہ سکتا، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام ہم سے کس قسم کی معرفت کا مطالبہ کرتا ہے؟

کیا صرف یہ جان لینا کافی ہے کہ امام کون ہیں؟ یا اس سے بڑھ کر بھی کوئی حقیقت مطلوب ہے؟

قرآنِ کریم اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف ظاہری پہچان نجات کے لیے کافی نہیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"جب ان کے پاس وہ کتاب آئی جو ان کے پاس موجود نشانیوں کی تصدیق کرنے والی تھی، اور وہ پہلے کافروں پر فتح کی امید رکھتے تھے، پھر جب ان کے پاس وہ آ گیا جسے وہ خوب پہچانتے تھے تو اس کا انکار کر بیٹھے، پس اللہ کی لعنت ہو کافروں پر۔"

اس آیت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ کتاب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھی طرح پہچانتے تھے، لیکن اس کے باوجود آپؐ کا انکار کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ اللہ کی لعنت کے مستحق قرار پائے۔

اسی حقیقت کو قرآنِ کریم نے ایک اور مقام پر یوں بیان فرمایا:
"جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا کی ہے، وہ اس رسول کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک گروہ جان بوجھ کر حق کو چھپاتا ہے۔"

یعنی انہیں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت میں کوئی شک نہیں تھا، وہ آپؐ کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے تھے، مگر پھر بھی ہدایت سے محروم رہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ صرف پہچان لینا نجات کے لیے کافی نہیں، بلکہ ایسی معرفت مطلوب ہے جو ایمان، اطاعت اور تسلیم کے ساتھ ہو۔

اس حقیقت کو تاریخ بھی واضح کرتی ہے۔

واقعۂ کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے شمر سے فرمایا:
"کیا تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں؟"

شمر نے جواب دیا:
"میں آپ کو خوب پہچانتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کی والدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہیں، آپ کے والد امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام ہیں اور آپ کے نانا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، لیکن اس کے باوجود میں آپ کو قتل کروں گا۔"

یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک بہت بڑا درس ہے۔ شمر کو امام کی شخصیت کی پہچان تھی، لیکن اس نے انہیں اللہ کی جانب سے واجب الاطاعت امام تسلیم نہیں کیا، اسی لیے وہ ہمیشہ کے لیے لعنت اور جہنم کا مستحق قرار پایا۔

قرآنِ کریم بھی ارشاد فرماتا ہے:
"جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اللہ کا غضب اور لعنت اس پر ہوگی، نیز اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔"
پس واضح ہوا کہ صرف نسب، فضیلت یا شخصیت کی پہچان کافی نہیں، بلکہ حقیقی معرفت وہ ہے جو انسان کو امام کی ولایت اور اطاعت تک پہنچا دے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر امام کی معرفت کے بغیر انسان جاہلیت کی موت مرتا ہے، اور صرف ظاہری پہچان بھی نجات کے لیے کافی نہیں، تو پھر وہ کون سی معرفت ہے جو انسان کو جاہلیت، گمراہی اور ہلاکت سے نجات دلاتی ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ معرفتِ امام کا پہلا اور بنیادی مرحلہ یہ ہے کہ انسان امام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصوب امام مانے، اس بات پر یقین رکھے کہ ان کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی جانب سے واجب ہے، اور دل و جان سے ان کی ولایت کو قبول کرے۔

اس حقیقت کو متعدد احادیث نے واضح کیا ہے۔ ان میں سے ایک روایت میں حمزہ بن حمران بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا:

"مولا! میں آپ پر قربان جاؤں، امام کے حق کی معرفت سے کیا مراد ہے؟"

امام علیہ السلام نے فرمایا:
"یہ یقین رکھو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امام ہے اور اس کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے واجب ہے۔"

اس روایت کی روشنی میں گزشتہ تمام سوالات کے جواب بھی واضح ہو جاتے ہیں۔

اہلِ کتاب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچانتے تھے، مگر انہیں اللہ کا برحق رسول مان کر ان کی اطاعت قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے، اس لیے ان کی ظاہری پہچان انہیں نجات نہ دے سکی۔

اسی طرح شمر حضرت امام حسین علیہ السلام کو پہچانتا تھا، ان کے نسب اور مقام سے بھی واقف تھا، لیکن اس نے امامِ برحق کی اطاعت کے بجائے یزید کو اپنا صاحبِ امر تسلیم کیا۔ یہی حال عمر بن سعد اور دیگر افراد کا بھی تھا۔ وہ امام حسین علیہ السلام کی شخصیت سے ناواقف نہیں تھے، لیکن انہیں اللہ کی جانب سے واجب الاطاعت امام نہیں مانتے تھے، اس لیے ان کی پہچان ان کے کسی کام نہ آ سکی۔

چاہے اس انکار کا سبب دنیا طلبی ہو، اقتدار کی خواہش، منصب کا لالچ یا جان و مال کا خوف، نتیجہ ایک ہی نکلا کہ وہ صراطِ مستقیم سے ہٹ گئے اور ہمیشہ کی محرومی کے مستحق بنے۔

اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ معرفتِ امام ہی درحقیقت صراطِ مستقیم ہے، نہ کہ صرف لغوی معنی میں کسی کو جان لینا یا پہچان لینا۔

اسی حقیقت کی طرف سورۂ فاتحہ کی دعا بھی رہنمائی کرتی ہے:
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ

باطنی اعتبار سے اس دعا کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ:

"پروردگار! ہمیں امامِ برحق کی معرفت، ولایت اور اطاعت کے راستے پر ثابت قدم رکھ۔"

لہٰذا معرفتِ امام کا پہلا قدم یہ ہے کہ انسان امام کو معصوم، اللہ تعالیٰ کی جانب سے منصوب اور واجب الاطاعت مانے۔ اس کے بعد جس قدر انسان کی معرفت میں اضافہ ہوتا جائے گا، اسی قدر اس کی اطاعت، محبت، اخلاص اور قربِ الٰہی میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔

اسی بنا پر بعض افراد حضرت سلمان فارسی، حضرت ابوذر غفاری اور حضرت مقداد جیسے بلند درجات پر فائز ہوئے، کیونکہ ان کی معرفت دوسروں سے زیادہ کامل تھی۔

یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایک ہی عمل کا ثواب مختلف افراد کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر زیارتِ امام حسین علیہ السلام کے بارے میں بعض روایات میں ایک حج، بعض میں اکیس حج، اور بعض میں ہر قدم پر ایک حج کا ثواب بیان ہوا ہے۔ اس تفاوت کی ایک اہم وجہ زائر کی معرفت کا فرق ہے۔ جس قدر معرفت کامل ہوگی، اسی قدر اجر و ثواب بھی زیادہ ہوگا۔

اب سوال یہ ہے کہ معرفت میں اضافہ کیسے حاصل ہو؟

اس کے جواب میں ابوحمزہ ثمالی روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا:

"مولا! اللہ تعالیٰ کی معرفت سے کیا مراد ہے؟"

امام علیہ السلام نے فرمایا:"اللہ عزوجل کی تصدیق کرنا، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کرنا، امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت کو قبول کرنا، ان کی پیروی کرنا، تمام آئمۂ ہدیٰ علیہم السلام کی امامت اور ولایت کا اقرار کرنا، ان کی اطاعت کرنا، اور اللہ کی بارگاہ میں ان کے دشمنوں سے بیزاری اختیار کرنا، یہی حقیقی معرفت ہے۔"

اس جامع حدیث میں امام علیہ السلام نے معرفت کی تمام حدود واضح فرما دی ہیں۔

لہٰذا حقیقی معرفت کا مفہوم صرف کسی شخصیت کو جان لینا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن ہستیوں کو اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے منتخب فرمایا، انہیں اللہ کی طرف سے مقرر کردہ رہبر، امام اور حجت مانا جائے، ان پر کامل ایمان رکھا جائے، ان کی اطاعت کی جائے اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر ثابت قدم رہا جائے۔ یہی وہ معرفت ہے جو انسان کو جاہلیت، گمراہی اور ہلاکت سے بچا کر قربِ الٰہی تک پہنچاتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha